Home > ShiaGenocide > سیدہ محضر زہرا کا قبیلہ اور اعزاز- ارشاد حسین ناصر

سیدہ محضر زہرا کا قبیلہ اور اعزاز- ارشاد حسین ناصر

30 نومبر کی صبح جلتے ہوئے کراچی شہر میں جہاں اور بہت سے معصوم و بیگناہ انسانوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا، وہاں سید نذر عباس زیدی جو اپنی 12 سالہ دختر سیدہ محضر زہراء کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے، کو بھی سفاک دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ باپ کے ساتھ اسکول جانے والی 12 سالہ دختر سیدہ محضر زہراء بھی ان بہادر اور شجاع مجاہدین اسلام کے غضب اور بہادری کا نشانہ بن گئی۔ سید نذر عباس زیدی تو شہادت سے ہمکنار ہوگئے، مگر ان کی بیٹی شدید زخمی حالت میں آغا خان اسپتال منتقل کر دی گئی، جہاں اس کی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں بنائی جاتی اور وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بتائی جاتی ہے، ہم اس معصوم اور یتیمی کی ردا اوڑھنے والی سید ذادی کی زندگی کی دعا ہی کرسکتے ہیں۔

اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ اس کو ہوش آتے ہی اپنے بابا کا خیال آئے گا اور وہ برملا اپنے بابا کو پکارے گی اور ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا اور شائد کوئی بھی ایسا نہ ہو جو اسے بتا سکے کہ اسے اب یتیمی کی چادر اوڑھنا ہے۔ میں اس سانحہ کی حقیقت، گہرائی اور اس سے ملتے جلتے دیگر کئی ایک واقعات کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے اردگرد چلتے پھرتے انسان بلکہ پورا معاشرہ ہی تضادات، تعصبات اور محدودیت و تنگ نظری کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ میرے اعتماد پر شدید چوٹیں اور ضربیں لگتی ہیں، مجھے اپنے جسم و جان پر ایسے زخم نظر آتے ہیں کہ جن کے گھاؤ ہر دم بے چین رکھتے ہیں۔۔۔آخر وہ کیا ہے جو ذہن و افکار، سوچ و خیال اور تصور میں آنے والے ان گنت سوالوں کا موجب ہے۔ ایسے سوالات جن کا جواب کہیں سے نہیں ملتا، معلوم نہیں کیوں اور کب تک اس کیفیت سے دوچار رہیں۔۔؟

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ مینگورہ کی ایک بچی پر اسکول جاتے ہوئے قالانہ حملہ ہوا اور اس کی خبر نے اس خطہء ارضی کی کائنات کو ہلا کر رکھ دیا۔ قصرِ صدارت سے لیکر عساکر پاکستان تک، صوبوں سے لیکر تحصیلوں تک، سیاست مداروں سے لیکر سرکاروں تک، امریکہ سے لیکر UNOتک، اسکولوں کے کم سن بچوں سے لیکر بازار میں بیٹھے تاجروں تک ہم آواز نظر آئے۔ آرمی چیف، صدر پاکستان، وزیراعظم، وزراء، سفارت کار اور سماجی و سیاسی شخصیات نے اپنا پوائنٹ آف ویو دینا اور تیمارداری کرنا فرض سمجھا۔ میڈیا نے تو حق ہی ادا کر دیا، ملالہ سے متعلق ہر معمولی خبر بریکنگ نیوز بن گئی۔

ہمارے میڈیا کے انتہائی ذمہ دارانہ کردار کی بدولت ہی دنیا کو پتہ چلا کہ اس قدر عظیم کردار و خدمات کی حامل ملالہ ہمارے ملک میں رہتی ہیں، جس کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہوا ہے اور وہ ایک عظیم حادثہ کا شکار ہوگئی ہے۔ نتیجتاً اقوام عالم نے بھی اس سانحہ کو باعث رنج و غم سمجھا اور ملالہ کیلئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا، اس کے علاج کیلئے پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز تو پہلے ہی تیار تھے، ایک دوست ہمسایہ ملک کی ایئر ایمبولینس بھی کئی دن تک سٹینڈ بائی رہی اور پھر سب نے دیکھا کہ میڈیا کے کیمرے کئی جگہ فکس ہوگئے، تاکہ ملالہ کے باہر جانے کی نیوز کو پہلے چلانے کا اعزاز حاصل کر لیں۔۔۔ اور جب ایئر ایمبولینس نے اڑان بھر لی تو پتہ چلا کہ ملالہ جا چکی ہے۔۔۔

اس کے بعد انگلینڈ میں TV چینلز کے نمائندے کیمرے لیکر پہنچ چکے تھے، تاکہ وہاں کا کوئی لمحہ دکھانے سے رہ نہ جائے، اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ ملالہ ایک نامی گرامی اسپتال میں پہنچ گئی، جہاں اس کی سکیورٹی اور علاج پر بھرپور توجہ دی گئی، تاکہ اس کی زندگی جو بہت اہم ہے، کو بچایا جاسکے۔ خبروں کے مطابق حکومت پاکستان اس کے علاج اور دیگر تمام اخراجات برداشت کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس کیلئے یوم دعا کی اپیل کی، پاکستان کے سرکاری و نجی اسکولوں میں یوم دعا کی تقریبات کی خصوصی کوریج نے ماحول کو گرمائے رکھا اور یوں کئی دن تک ملکی و عالمی اہم ایشوز پسِ پردہ رہے، خصوصی طور پر توہین آمیز فلم کے بعد اٹھنے والا ظوفان، جس کا ٹارگٹ امریکی قونصلیٹ اور سفارت خانے و سفراء تھے، میں سکون کی نیند لی جانے لگی۔ آج ملالہ کی کوئی خبر نہیں لے رہا، کسی نے اس کا انٹرویو نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اس قدر بڑی اسٹوری کو نتیجہ خیز بنا کر دکھانے کیلئے کوشاں ہے ۔۔۔ دیکھیں اس اسکرپٹ کے تحت لکھے گئے دیگر کردار کب نمایاں ہوتے ہیں۔

30 نومبر کی صبح 12 سالہ سیدہ محضر زہراء کو بھی کراچی میں اسکول جاتے ہوئے دہشت گردوں نے باپ کے ساتھ گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا، اس کا باپ سید نذر عباس زیدی جام شہادت نوش کر گیا، اور محضر زہراء اسکول جانے کے بجائے آغا خان اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تڑپ رہی ہے۔ اسے بھی اپنے اوپر آنے والی قیامت اور ظلم کا کوئی پتہ نہیں اور وہ کس حال میں ہے، اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔ اس پر چلنے والی گولیوں کی تڑتراہٹ کسی کو بھی سنائی نہیں دی۔ شائد کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کی بلندی میں کہیں کھو گئی ہے، مگر سوات اور مینگورہ میں بھی تو بلند و بالا پہاڑ ہیں ۔۔۔

شائد دس پندرہ افراد کا خون روزانہ پینے والے شہر میں اس کا بہنے والا خون بے رنگ ہوگیا تھا۔۔ مگر ۔۔ سوات اور مینگورہ اور قبائلی علاقوں میں بھی تو انسانوں کا خون بہت ارزاں ہے، جنہیں اکثر جانوروں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے اور اس کے ندی نالوں اور دریاؤں کو اس خون کی سرخی سے رنگین کیا جاتا ہے۔۔۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سیدہ محضر زہراء گل مکئی نہیں ہے، جس نے بی بی سی کیلئے رپورٹنگ کی تھی۔ وہ ملالہ بھی نہیں، جس نے امریکی CIA اہلکاروں سے ملاقاتیں کی تھیں، وہ مینگورہ اور سوات سے بھی تعلق نہیں رکھتی، جہاں کے لوگ عالمی سازشوں کا شکار ہو کر لاکھوں کی تعداد میں اپنے ہی وطن میں ہجرت کرگئے ہوں ۔۔۔

کراچی کی اس سید زادی کیلئے امریکہ، انگلینڈ، UNO، صدر پاکستان، آرمی چیف، سیاست دانوں اور مذہبی و سماجی این جی اوز کو حرکت میں آنے کی کیا ضرورت ہے، اس کے علاج پر آنے والے اخراجات اور اسے تحفظ فراہم کرنے کیلئے سکیورٹی اداروں کر چوکس کرنے کی کیا ضرورت ہے، سادات کی غلامی کا دم بھرنے والا ایک سندھی صدر بھلا کس لئے اس کی خبر گیری کو آئے گا، سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے سندھ کے وزیراعلٰی کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنا قیمی ٹائم اس سید زادی کی بیمار پرسی پر خرچ کرے۔ ہر خبر پر نظر رکھنے والا کراچی کا بزعم خود مالک لندن سرکار بھی کراچی سے تعلق رکھنے والی اس دختر کی دلجوئی اور ظالموں سے اظہار نفرین کیلئے لب کشائی سے محروم نظر آیا۔۔۔ میڈیا کو اس معاملہ سے بھلا کیا دلچسپی کہ اس کام کیلئے ان کے بنک اکاؤنٹس میں اس کے بدلے کسی عالمی طاقت نے کچھ بھی ٹرانسفر نہیں کرنا۔۔۔۔ ۔۔

سیدہ محضر زہراء جس قبیلہ سے تعلق رکھتی ہیں، وہ ہمیشہ تعصبات، تنگ نظریوں، ستم گروں، منافقتوں اور دلوں میں چھپے ہوئے دیرینہ بغض کا شکار ہوتا آیا ہے۔ ثقیفہ سے لیکر کربلا تک، اور دربار مدینہ سے لیکر دربار شام تک اس کے قبیلہ کو ظلم و زیادتیوں کا شکار کیا گیا ۔۔۔ انہیں مٹانے کی کوششیں کی گئیں، انہیں جھکانے کی سازشیں کی گئیں ۔۔ مگر ۔۔ یہ سربلند نظر آئے۔۔ وقت کی گرد نے اگر کچھ لمحوں کیلئے اس خاندان کو دھندلا بھی دیا تو تاریخ نے آگے بڑھ کر ان کی صداقت، سچائی اور قربانیوں کی گواہی دی۔۔ یہ تمہارا قبیلہ ہی تو ہے۔۔ اے محضر زہراء۔۔ جو شام غریباں کے سکوت میں فرات کو شرمندہ کر گیا اور رسن بستہ و سر بریدہ ہو کر بھی اپنے اعزاز کو قائم رکھا اور صدائے حق کو لوگوں تک پہنچایا۔۔۔ اور قاتلوں کے چہروں سے نقاب الٹ دیا۔۔!
نکل کے جبر کے زنداں سے جب چلی تاریخ
نقاب اٹھاتی گئی قاتلوں کے چہروں کا

Categories: ShiaGenocide Tags:
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: