ایک آشنا اجنبی کی یاد میں-محمد علی نقوی

December 18, 2012 Leave a comment

n00221894-t

انسان ایک عجیب و غریب مخلوق ہے، خداوند عالم نے اسے عظیم امانت سپرد کرنے کے باوجود ظالم اور جاہل قرار دیا ہے، لیکن انسان آپس میں بھی کچھ اسطرح کے رویے
رکھتے ہیں کہ کسی انسان کو مکمل طور پر پرکھنا اور اسکے بارے میں حتمی رائے دنیا ایک مشکل امر ہوتا ہے، دنیا میں انسان شناس افراد بہت کم ہوتے ہیں، اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ کسی انسان کے تمام پہلوؤں کی مکمل عمیق اور گہری معرفت کا دعویٰ نہیں کرسکتے اور اگر کہیں کرتے بھی ہیں تو ان کے پاس اس کی مستند دلیل نہیں ہوتی۔ انسان تو خود اپنے آپ کو نہیں پہنچانتا، کجا یہ کہ کوئی دوسرا اس کا صحیح ادراک کرسکے۔

انسان تضادات کا مجموعہ بھی ہے، لہذا اس کی کسی ایک خوبی کی بدولت اس کی دوسری اچھائی یا برائی کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے ایک شخص محفل میں انتہائی مہربان اور حلیم ہو، لیکن اپنے اہل خانہ یا کسی دوسرے حلقے میں اس کی شخصیت اسکے مکمل برعکس ہو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ بڑے بڑے دلیر اور سورما میدان جنگ میں تو دشمن کے لئے خدا کا عذاب بن جاتے ہیں لیکن تنہائی یا میدان جنگ سے باہر ایک انتہائی حلیم اور مہربان فرد کے طور پر زندگی گزارتے ہیں۔ اسکے برعکس بھی بہت سی مثالیں ہیں، صدر اسلام کی ایک بہت نامور شخصیت جس کا کوڑا اور غضب مسلمانوں اور لاچاروں پر ہمیشہ برسنے کے لئے تیار رہتا تھا، لیکن میدان جنگ میں یہ حضرت کسی دشمن کو خراش بھی لگانے کی ہمت و جرات نہیں کرتے تھے۔
شاید اسی طرح کے افراد کو دیکھ کر قرآن پاک میں اشارہ ہوا کہ:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

مومن رزمگاہ میں دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار ہوتا ہے جبکہ منافق حلقہ یاراں میں فولاد بن کر اپنوں کو فتح کرنے میں کوشاں رہتا ہے۔

اسی طرح کی صفات کی روشنی میں ایک انسان کی دوسرے انسان سے آشنائی پیدا ہوتی ہے۔ انسان بعض اوقات اپنے آپ کو کسی کا بہت ہی قریبی اور صمیمی دوست سمجھتا ہے، جبکہ تمام تر ظاہری قربت اور ہم آہنگی کے باوجود وہ حقیقت میں ایک دوسرے سے اجنبی ہوتے ہیں، بعض اوقات اسکے برعکس بھی ہوتا ہے، انسان کی کسی سے ملاقات ہوتی ہے اور انسان چند لمحوں میں احساس کرنے لگتا ہے کہ وہ صدیوں سے ایک دوسرے سے آشنا ہیں، زمان و مکان سمٹ جاتے ہیں اور انتہائی کم وقت کی قربت مکمل ہم آہنگی و صمیمیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ سماجی ماہرین کی نظر میں اس قربت و صمیمیت اور فوری ہم آہنگی کے پیچھے نظریات اور طرز تفکر کا ایک ہونا ہوتا ہے۔

جن افراد کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے وژن اور اہداف کو درک کرنے لگتے ہیں تو انہیں نزدیکی دوست یا نظریاتی ساتھی بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اہداف اور وژن کا باہمی دوستی اور آشنائی میں نہایت اہم کردار ہوتا ہے، البتہ یہاں پر ایک اور بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ بعض اوقات نظریاتی ہم آہنگی تو ہو جاتی ہے لیکن اہداف اور اہداف تک رسائی کے بارے میں اختلاف بھی آشنا کو اجنبی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ آج جس آشنا اجنبی کا ذکر مقصود ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ وہ بہت سے دوستوں کا آشنا اور رفیق تھا، لیکن اکثر اس سے اور بہت سے اس کے لئے اجنبی تھے۔ شہید علی ناصر ایک منفرد وژن اور مثالی اہداف کا حامل ایک فرد تھا، اس میں دوست بنانے کی صلاحیت اپنے عروج پر تھی، لیکن کوئی اسکی آشنائی کی حدود میں داخل نہیں ہو پاتا تھا۔

ملک، تشیع اور مستضعفین کے بارے میں اسکا وژن غیر معمولی نوعیت کا تھا، جب وہ اسکے بارے میں تفصیل سے گفتگو کرتا تو اسکے بہت سے آشنا اجنبی ہو جاتے، وہ جب اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے اپنے لائحہ عمل اور طریقہ کار کا اظہار کرتا تو بڑے قریبی دوست اجنبی اجنبی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگتے، یہ مسئلہ صرف شہید علی ناصر صفوی کو درپیش نہیں تھا بلکہ تاریخ میں بہت سی شخصیات ایسی گزری ہیں جو اپنے دور کے لئے اجنبی تھیں، لیکن بعد کی نسلوں نے انہیں پہچانا اور اس سے آشنا ہوئی۔

شہید علی ناصر صفوی اور ایران کی ایک انقلابی شخصیت شہید نواب صفوی میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ شہید نواب صفوی کو بھی اس دور کے بڑے بڑے آگاہ دانشور حتی مرجع تقلید بھی صحیح طرح پہچان نہ سکے، بلکہ بعض اوقات تو شہید نواب صفوی کو ان بزرگان کی وجہ سے مشکلات اور اعتراضات کے کوڑے سہنے پڑے۔ شہید نواب صفوی بھی اپنے اہل خانہ اور اپنے مخصوص دوستوں کی ایک ٹیم جس میں ان کی ٹیم کے اہل خانہ بھی شامل تھے، شاہ کی ظالم و ستم گار خفیہ ایجنسی ساواک سے برسرپیار رہے، شہید ناصر صفوی کا انداز بھی ان سے بہت زيادہ ملتا جلتا تھا۔

شہید نواب صفوی بھی اندر سے انتہائی جذباتی اور بے چین طبیعت کے مالک تھے، لیکن یہ جذباتیت اور بے تابی انکے امور میں نظر نہیں آتی تھی، شہید ناصر صفوی کے اندر بھی جذبات کا بے کران سمندر موجزن رہتا، لیکن اپنے تنظیمی امور کو اس سے متاثر نہیں ہوتے دیتے تھے، بلکہ بعض اوقات تو انکی لمبی چوڑی منصوبہ بندی پر دوست احباب احتجاج کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ دونوں جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے لاغر اور مرنجاں مرنج شخصیت تھے، لیکن امور کی انجام دہی کے موقع پر انکے ظاہری لاغر اور کمزور بدن میں ایک بجلی سے دوڑ جاتی اور سخت سے سخت حالات میں انکے چہرے کا اطمینان دوستوں کو حیران و ششدر کر دیتا تھا۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک بار شہید نواب صفوی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے اندر انقلاب کی ابتدائی چنگاری بھڑکانے میں سب سے بنیادی کردار شہید نواب صفوی کا ہے، جن کی تقریر سن کر میرے اندر انقلاب کے لئے ایک نیا جذبہ بیدا ہوا، شہید علی ناصر کے حوالے سے بھی بہت سے دوستوں نے اسکا اعتراف کیا ہے۔ بہت سے ایسے افراد کو جن میں علماء اور روایتی شیعہ بھی شامل ہیں، جن کے اندر شہید ناصر صفوی نے اپنی مخصوص گفتگو سے تشیع کے دفاع کی چنگاری روشن کی۔

شہید علی ناصر بھی بہت سے دوسرے شہداء کی طرح بہت سے راز اپنے ساتھ لیکر منوں زمین کے نیچے دفن ہوگيا، وہ اجنبی اس دنیا سے گيا، اس کی زندگی کا “نیمہ پنہاں” نصف پوشیدہ حصّہ قریبی ترین دوستوں کی نظر سے اوجھل رہا، وہ نصف پوشیدہ حصّہ کیا تھا، شہادت کی آرزو تھی، ملت تشیع کی ترقی و پیشرفت کی تمنا تھی، نوجوان نسل کی آگاہی کی خواہش تھی، لشکر امام مہدی (‏ع) میں شامل ہونے کی امید تھی یا یادگار موت کی حسرت۔ قصہ مختصر، وہ اجنبی زندہ رہا اور اجنبی دنیا سے اٹھ گيا، ملت تشیع کے اس بے مثال، جفاکش، پردرد اور مخلص سپوت کی شہادت پر نہ کوئی احتجاجی مظاہرہ ہوا، نہ جنازہ شان و شوکت سے اٹھا، نہ اسکی شایان شان برسی منائی جاتی ہے، نہ کوئی اسکے کارناموں کو یاد کرتا ہے، وہ اجنبی زندہ رہا اور اجنبی دنیا سے اٹھ گيا۔

اس آشنا اور مانوس اجنبی پر ہم سب کا عقیدت بھرا سلام۔
گئے دنوں کا سراغ لیکر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جان، میرے تو دل میں اتر گیا وہ

وہ میکدے کو جگانے والا، وہ رات کی نیند اڑانے والا
نہ جانے کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا، نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارا، وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا، سنا ہے کل رات مر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں، گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا، مثل گرد سفر گیا وہ

سوڈانی عالم دین کاتاریخی فتوی: شیعہ مذہب کی پیروی جائز ہے

December 18, 2012 Leave a comment

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی بیداری کے عروج کے اس زمانے میں، علاقے ـ بالخصوص شمالی افریقہ میں ـ امت مسلمہ کی ہمدرد شخصیات کی توجہ اسلام کے حلفیہ دشمنوں کا سامنا کرنے کے لئے ـ مسلمانان عالم کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت کی طرف مبذول ہوئی ہے۔
سوڈان کی ہیئۃالعلماء کے سربراہ “پروفیسر شیخ محمد عثمان صالح” اہم اسلامی ملک “سوڈان” اور شمالی افریقہ کی اہم اسلامی شخصیات اور نامور علمائے دین میں سے ہے جنہوں نے مذہب حقہ جعفریہ اثنا عشریہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی پیروی کو جائزقرار دیتے ہوئے، اسلامی مذابب کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو ان اہم موضوعات میں سے ایک، قرار دیا جن کو خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت ہے؛ چنانچہ انھوں نے زمانے کے اس حساس مرحلے میں اپنا تاریخی فتوی جاری کیا اور صہیونی ریاست سمیت اسلام کے تمام حلفیہ دشمنوں کے سامنے امت اسلام کے ہر فرد کو وحدت، یکجہتی اور یکدلی کی دعوت دی ہے۔
انھوں نے نے سوڈان سے شائع ہونے والے روزنامے “اخبارالیوم” مورخہ 13 دسمبر 2012 عیسوی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: “شیعہ اور سنی مذاہب کے درمیان نوے فیصد مسائل (اصول و فروع) مشترکہ ہیں؛ خداوند متعال نے قرآن مجید میں ہر مسلمان فرد کو مُخاطَب قرار دیا ہے اور ان کے درمیان فرق کا قائل نہیں ہوا ہے”۔
شیخ محمد عثمان صالح نے تمام عرب اقوام سے درخواست کی ہے کہ ایران، ترکی اور پاکستان کی ملتوں کے ساتھ  متحد ہوجائیں اور اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے اور خلیج حائل کرنے کی غرض سے ہونے والی دشمنان اسلام کی منحوس سازشوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔
انھوں نے کہا: “آپ اندازہ لگائیں کہ اگر اہل سنت اور اہل تشیع کے دو مذاہب کے تمام پیروکار کفر کے سرغنوں کے مقابلے ميں متحد و متفق ہوجائیں تو کیا عظیم طاقت معرض وجود میں آئے گی! اور کیا حالت ہوگی جب سنی مذاہب شیعہ مذہب کی طاقت کے ساتھ کفر کے خلاف متحد ہوجائیں؟

 

 

261696

 

انھوں نے کہا: “اسلامی دنیا کی تمام تر توجہ صہیونی ریاست کی طرف مبذول ہونی چاہئے کیونکہ صہیونی ریاست مسلم امہ کا حقیقی دشمن ہے۔
پروفیسر شیخ محمد عثمان صالح نے تمام اقوام اور حکومتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا: علاقے میں شیعہ فوبیا کے سلسلے میں ہونے والی سازش اور تشہیری مہم کا فوری طور پر سدّ باب کریں اور صہیونی ریاست کو ـ جو امت مسلمہ کا دشمن نمبر ایک ہے ـ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کا موقع نہ دیں۔
عثمان صالح نے آخر میں میں مذاہب “اہل تشیع اور اہل تسنن” کے درمیان اشتراکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “شیعہ اور سنی کے دو مذاہب کے درمیان 90 فیصد اشتراکات پائے جاتے ہیں اور ان دو مذاہب کے درمیان جزوی اختلافات بھی محض تاریخی اختلافات ہیں”۔
پروفیسر شیخ محمد عثمان صالح نے یہ فتوی ایسے حال میں جاری کیا ہے کہ وہابی دین کے پیروکار ـ صہیونی اور مغرب کی طرف سے اسلام فوبیا (مغربی دنیا کو اسلام سے خوفزدہ کرنے) کے حوالے سے جاری تشہیری مہم کے موقع پر ـ شیعہ فوبیا (اور مسلمانوں کو مذہب شیعہ سے خوفزدہ کرنے) کی سازش پر عمل پیرا ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں شیعہ اور سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے حوالے سے مغربی اور صہیونی قوتوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے مسلمانوں کے جاری قتل عام میں ملوث ہیں۔
علاقے کے ممالک ـ بالخصوص شمالی افریقی ممالک ـ میں اسلامی بیداری کی لہر کے آغاز کے بعد اسلام اور مسلمین کے حلفیہ دشمن مختلف قسم کی سازشوں اور شبہات کے ذریعے خالص محمدی اسلام پر مبنی تفکر کی ترویج و فروغ کا راستہ روکنے کے درپے ہیں اور مختلف قسم کے منصوبوں سے اسلامی بیداری کی اس عظیم لہر کو منحرف کرکے اپنے مفاد میں ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے حال میں پروفیسر شیخ محمد عثمان صالح جیسی نمایاں شخصیت کا تاریخی فتوی ـ جو دنیائے اسلام میں اثر و
نفوذ کے مالک اور سوڈان و شمالی افریقہ کے صاحب رائے و نظر دینی راہنما ہیں ـ اسلامی امہ کی عظیم تحریک میں ایک نہایت اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

Source : http://www.abna.ir

Message to Shia Nation and Activists by Ali Murtaza Zaidi

December 18, 2012 Leave a comment

یہ گمان نہ کریں کہ ٣٠ سال کی مشکلات کا حل دو شبوں میں مل جائے گا، گزشتہ شبیں کوششیں ہیں۔ کئی سینکڑوں ایسی شبیں لگیں گی تب جا کر ایک ایسی شب آئے گی جو نویدِ سحر لائے گی، ایسے تجربات سے قوم سیکھتی ہے ۔ اس قوم کے کاندھے پر بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ دنیا میں سب سے آسان کام برائیاں نکالنا ہے اور خاص طور پر قوم کی برائیاں نکالنا۔ انبیاء اور علماء یہ کام نہیں کرتے، بلکہ اپنی قوم کی خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ ہم اپنی قوم کی برائیاں کرتے ہیں جب کہ امام خمینی رح اور رہبرِ معظم اس قوم کی تعریف کرتے ہیں۔ میں مطمئن ہو کر یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ قوم بہتری کی طرف جارہی ہے۔

مولانا علی مرتضی زیدی

CRIMINAL SILENCE OF THE SILENT COMMUNITY by Bintul-Huda

December 16, 2012 Leave a comment

There was a place which had no grace,

People who lived there had no faith.

 When innocent children were being killed,

With money people’s mouth were filled.

 Many men are being murdered,

Chief justice is not at all bothered.

 Some people were butchered like animals,

Yet the killers are not considered criminals.

 Many murdered were just teens,

The NGOs took it as unseen.

 Yes this is the story of mankind,

Not of animals, or any other kind.

 When women are killed nobody cares,

To speak for truth, nobody dares.

 What really kills brutally the humanity,

Is the Criminal Silence of the Silent Community

Where genocide is legal by Shahana Fatima

December 15, 2012 Leave a comment

There is a place no one wishes to speak of,
A place where silence and complacence is creed,
Governed by injustice,
Bloodlust and greed.
A place of constant mourning,
Lamenting and sorrow,
Where precious loved ones are laid to rest,
With no dreams of tomorrow.
It’s a place where hopes are shattered,
Where hope can dare to hope no more,

Where suffering is the only option,
Peace aloof; like never before.
It exists, this place, I assure you so,
On God’s green Earth, a gift to mankind!
Now ruled and represented ,
By the deaf, dumb and blind,
Where humanity is slaughtered
By bullets, guns and ambition,
Where genocide is legal,
Without pre-condition!
Do you know of this place?
Tell me! Do you know?
Has anyone shown you,
Where rivers of tears and blood flow?
Where prayers are unanswered,
And cries are unheard.
Where faith is punished
And justice unserved.

نظم : “میڈیا خاموش ھے ۔۔۔۔!!!” شاعر : سید صفدر رضا صفی شیرازی

December 15, 2012 Leave a comment

جل رھے ھیں گھر ھمارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے
کٹ رھے ھیں سر ھمارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

فوج ھو یا عدلیہ ھو یا ھو جمہوری نظام
گھل ملے سارے کے سارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

کوئی کچھ کہتا نہیں اس جبر و استبداد پر
“لب سلے” ، “گونگے” ، “بیچارے” ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

تف عدالت پر ، نظام ِ عدل ِ پاکستان پر
“افتخار ِعدل” سارے ۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

ڈالر و درھم ، ریال و بونڈ مذھب بن گئے
بے گناہ کے خون بارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

گلگت و چلاس و بلتستان ، کربل بن گئے
پھر سجے میداں ھمارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

سر سناں پر ، گردنوں پر تیر اور بازو قلم
دیکھ تو منظریہ پیارے ۔ میڈیا ۔۔۔!! خاموش ھے ۔۔!!

اب ھمیں گھر گھر بنانا ھونگی اپنی چوکیاں
سو گئے فوجی ھمارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب جنازوں پر جنازے ھم اٹھا سکتے نہیں
جان لیں دشمن ھمارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب قلم شمسیر بنتا جارھا ھے روز و شب
سامنے آو ھمارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب لہو کے ایک اک قطرے کا لیں گے ھم حساب
ھم کو بھی بچے ھیں پیارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

ھم نے اپنی ماووں کی گودوں سے لی جام ولا
ھم شجاعت کے ستارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

حیدر و جعفر ھمارے جد ھیں ۔۔ ھے تجھ کو خبر ۔۔۔؟
اے عدو ، اے بے سھارے ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے ۔۔۔!!!

تو احد سے بھاگنے والوں کی عادت کا نشاں
ھم نے خیبر توڑ مارے ۔۔۔ ۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

تو ھمیشہ چھپ چھپا کے وار کرتا ھے رزیل
اب مقابل آ ھمارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

جھ مہینے کے علی اصغر کا صدقہ شیر خوار
کاٹ دے تیرے حصارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

قاسم و عون و محمد کی شبیہ میرے جواں
تیری شہ رگ کے کنارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

بس علی اکبر کے ھونٹوں کے تبسم کی قسم
اب کٹیں گے سر تمھارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

چادر زھرا کی حرمت کی قسم کھاتے ھیں ھم
اب جلیں گے گھر تمھارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب پشاور اور جھنگ میں ھو گا اگلا معرکہ
اب بچا اپنے بچارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب لگائیں گے عدالت ھم بھی ناصر باغ میں
ٹکٹکی پر ھو گے سارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

ھم علم لہرائیں گے مینار ِ پاکسان پر
تو لگا لے اپنے چارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب سعودی اور نجدی طالبانی فکر کو
کون دے پائے کنارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

اب سجے گی ھر گلی کوچے میں تازہ کربلا
بھر چکے پیماں ھمارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا خاموش ھے

نظم : “میڈیا خاموش ھے ۔۔۔۔!!!”
شاعر : سید صفدر رضا صفی شیرازی

Categories: Poetry Tags: , , ,

Lessons from the Martyrdom of Imam Husayn (A.S.)

December 14, 2012 Leave a comment

 Students of the so‑called historical method argue that in terms of immediate history, nothing was achieved as a result of the events on `Ashura, i.e. Muharram. They say that it was a tragedy, but its overall effect on the political events of the period was negligible. This is their conclusion and when they are asked why the Islamic books of history, written by scholars many centuries ago, devote more space, more pages, more words, to that event than to any other in the history of Islam, why there are more books devoted to that event in Islamic history than to any other, they shrug their shoulders and mumble something about the Shi`i influence on the writing of history. Yet, many of the writers are not members of the Shi’a. The famous Islamic historian Tabari devoted nearly two hundred pages to the story. No other event receives as much attention from him[39]. He most certainly was not a member of the Shi`a[40].

The fact is that these petty scholars with their tendentious criticisms are concerned only with the narrow details of political history. They do not perceive the cosmic nature of the martyrdom of Imam Husayn. For them, history is the restricted study of immediate cause and effect in political developments. But real history is about something far more important than that. Real history concerns men’s relationship with God and how that rela­tionship affects men’s relationships with each other. Real history attempts to show the cosmic significance of events, not their narrow immediate political results.

The tragedy of Karbala’, the martyrdom of Imam Husayn, is one of those events of cosmic significance. Its lessons concern not just one group of men and their relationship to the world, but all mankind. It is a moral paradigm. It teaches sacrifice and opposition to injustice: it teaches integrity of purpose, love of family, gentle­ness, and bravery. In fact, in the account of the tragic journey and martyrdom of Imam Husayn, there are lessons in all the moral virtues. Perhaps the one that strikes most of us most forcefully, is our own inadequacy in comparison with the enormous sacrifice Imam Husayn made on behalf of mankind.

He voluntarily allowed himself to be the sacrificial victim, seeking to fulfil the will of God. On this day, nearly fourteen hundred years ago, the Imam prepared himself for death. He anointed his body in water mixed with musk, it was the washing of the corpse before his body was a corpse, a preparation for his immediate entry into heaven. The symbols of his death are many, the suffering dreadful.
He watched as, one after another, his followers went to their deaths; as, one after another, his kinsmen went to their deaths; even his baby son was slaughtered in his arms as he gave him a farewell hug[41].

Yet Imam Husayn was not merely the sacrificial victim, he was also the exemplar of bravery and fortitude. He fought a brave and fierce fight against so many. Such was his power and strength, such was the aura of his person‑and he was by no means a young man‑that the only way his enemies could kill him was by a whole group of them attacking him at the same time and stabbing him together. The humiliation of the death was total; the vindictiveness and wickedness of this action by men is illustrated by the fact that his clothes were ripped from his body and then horses ridden over it[42].

The lesson is clear to us all: it shows the lengths of human wickedness. Imam Husayn exemplifies all suffering humanity. In that death, in those blows to his body, in the trampling of horses over it, Imam Husayn is the model, the paradigm of all unjust deaths, of all humans suffering. In this, his death teaches suffering men to endure, to remain steadfast in their belief in God. It also has a lesson to teach men who are more fortunate, that the world is a transitory place, worldly success is not an end in itself, and that man should always be aware of the suffering Imam Husayn experienced. By their awareness of this they will learn to treat worldly success with humility.

In the real sense of cosmic history, the martyrdom of Imam Husayn is a mighty triumph, a wondrous victory. Who would know the name Yazid today except for the fact that he was responsible for the martyrdom of Imam Husayn? Otherwise he would just be another of the thousands of despots, tyrants, and bullies that have abused their authority, another footnote in the history of man.

However, because his tyranny and wickedness was responsible for the good, the noble, the pure Imam’s death, he, by killing the Imam, the human model of goodness and bravery, has become the human model of injustice and wickedness.

The triumph of Imam Husayn lies in the fact that his inspiration has moved men to grieve for him throughout the centuries. The pure light of ennobled humanity in the Imam has motivated generation upon generation of the Shi’a, to suffer endless hardship, to keep his memory alive.
The first beginnings of the majlis, the sessions held in honour of the martyrdom of Imam Husayn. are to be discerned in the first gatherings of the surviving family of the martyred Imam. Very soon these gatherings of grief developed outside the family to include others[43].

Not long afterwards there was the majlis of the Kufan penitents, the tawwabin, when they gathered at his graveside to lament, to grieve, to prepare for death in the battle that was to come, to try, in some small way, to make themselves worthy of the sacrifice Imam Husayn had made for them and all mankind.

All despotic regimes have felt threatened by these majlises. Throughout the centuries they have tried to prevent them. At one time even the site of Imam Husayn’s grave at Karbala’ was ploughed up[44].

They feared the grief and lamentation for Imam Husayn because in that grief and lamentation people remembered the goodness, the justice, the kindness, the gentleness, and the bravery of the martyred Imam. These were not qualities that tyrannical governments wished people to think about, their concern was bribery, corruption, nepotism, and naked force. They saw the threat to their world, to their values, to their position. Seeing it, they sought to suppress the memory of Imam Husayn. However, such was the power, the influence, the glory of that memory, that they could not remove it from the hearts of men, from the Shi’a of all the Imams, the Shi`a of Imam Husayn.
The triumph of the martyred Imam is such that every year on `Ashura, in places all over the world, the faithful gather together to remember the Imam.

Notes:

[39] Tabari, op. Cit., 216‑390.

[40] Tabari, op. Cit., p. 360.

[41] Tabari, op. Cit., p. 366.

[42] Tabari, op. Cit., p. 368.

[43] M. M. Shams al‑Din, op. cit., pp. 140‑50.

[44] Tabari, Ta’rikh, III, 1408.

www.shafaqna.com/English

%d bloggers like this: